fbpx
Tickerآج کا ایشو

وزیرخارجہ بلاول کا مارشل لا کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف، سابق وزیر داخلہ شیخ رشیدکا ردِ عمل بھی آگیا

مئی 12, 2022 | 4:30 شام

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مارشل لاء کی دھمکی سے متعلق بیان پر شیخ رشید احمد کا

 

ردعمل آگیا ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ شکر ہے کسی وزیر کا بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ تو ہے ، میں نہیں سمجھتا کوئی وزیر مارشل لا کی دھمکی دے سکتا ہے، اسی ماہ فیصلے ہو جائیں گے، کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا اور انہوں نے کہا کہ کیا یہ اصلاحات چاہتے ہیں کہ ایف آئی اے کیسز بند ہو جائیں؟ کیا یہ چاہتے ہیں اوورسیز پیسے بھیجنا بند کر دیں؟ حالات کچھ اور ہوئے تو جھاڑو بھی

 

پھرسکتا ہے ، اس لیے حالات کو اس صورتحال سے نکالنا ہوگا ۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ عدم اعتماد سے ایک رات قبل مجھے حکومتی وزیر کی جانب سے دھمکی پہنچائی گئی کہ فوری الیکشن کرائیں یا پھر مارشل لاء آئے گا ، ہمیں غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل میں شامل افراد کے لیے کمیشن بنانا چاہیے ، قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں بحران ہی رہے ہیں ، حکومت میں آنے سے پہلے صورتحال

 

ٹھیک نہیں تھے ، سلیکٹڈ وزیراعظم کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا ، 4 سال میں سابق وزیراعظم نے ملک میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کو یاد رکھا جائے ، سابق وزیراعظم آئین شکنی کرچکے ہیں ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سیاسی حریف رہ چکے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ یہ جماعتیں اتحادی حکومت میں ایک ساتھ ہوں گی ، ایسے سیاسی حالات صرف تب ہوتے ہیں جب ملک میں جنگی حالات ہوں ۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت ملک میں ہر شعبے میں بحران ہے ، گزشتہ چار سال کے دوران ہر ادارے کو متنازعہ بنایا گیا ، جاتے جاتے عمران خان جمہوریت اور اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا گئے ، آئین اور جمہوریت پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، سابق وزریراعظم خود کو مقدس گائے سمجھتے ہیں ، ملک میں اداروں پر حملے کیے گئے ،ہمیں نظر انداز نہیں کرناچاہیے ، ہمیں غیر آئینی اور غیر

 

جمہوری عمل میں شامل افراد کے لیے کمیشن بنانا چاہیے ، جو تین اپریل سے اب تک ہوتا رہا ہے، کیسے چھوڑ دیں ، 3اپریل سے اب تک آئین پر جو حملے ہورہے ہیں اس پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button