fbpx
Tickerدلچسپ و عجیب

کرپٹو مارکیٹ سے بڑے سرمایہ کار پیسہ نکالنے لگے، مارکیٹ افراتفری کا شکار

جون 21, 2022 | 12:35 شام

 

کرپٹو کرنسی کی صنعت افراتفری کا شکار ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ کرپٹو کے بڑے سرمایہ کار مسائل کے سبب اپنا پیسہ یکدم نکال

 

سکتے ہیں اور اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو بڑی ہلچل مچ سکتی ہے۔خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن میں اس سال اب تک 57 فیصد اور رواں ماہ 37 فیصد کی کمی ہوئی ہے اور دسمبر 2020 کے بعد پہلی بار ویک اینڈ پر 20 ہزار ڈالر سے نیچے چلا گیا تھا۔قیمتوں میں کمی کے سبب صنعت کے کئی بڑے کھلاڑیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مزید گراوٹ کا بھی اندیشہ غالب ہے کیونکہ دیگر

 

کرپٹو سرمایہ کار کم ہوتے مارجن اور نقصانات کو پورا کرنے کے لیے اپنی ہولڈنگز فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔کرپٹو ہیج فنڈ تھری ایرو کیپیٹل کے بانیان نے وال اسٹریٹ جرنل کو جمعہ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا کہ ہم اثاثوں کی فروخت اور ایک اور فرم کے ذریعے بیل آؤٹ سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔امریکا میں مقیم قرض دہندہ سیلسیس نیٹ ورک نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ وہ رقم کے انخلا کو روک دیں گے اور

 

صنعت کے حالیہ مسائل میں سے اکثر کا مئی میں نام نہاد اسٹیبل کوائن ’ٹیرا یو ایس ڈی‘ کے بدترین زوال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔بٹ کوائن پیر کو 20 ہزار ڈالر کے دونوں اطراف ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ ایک ہزار 75 ڈالر پر موجود نمبر 2 کوائن ایتھر ایک ہزار ڈالر کی اپنی علامتی سطح سے نیچے گر گیا تھا۔کرپٹو لیکویڈیٹی فراہم کرنے والے ’بی ٹو سی ٹو‘ میں جاپان کے چیف رسک افسر ایڈم فارتھنک نے کہا کہ اگر مارکیٹ اوپر جاتی ہے تو ہر

 

کوئی چین کا سانس لے گا، اس میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جائے گی، لوگ ایکویٹی میں اضافہ کریں گے اور تمام خطرات ختم ہو جائیں گے لیکن اگر ہم یہاں سے بہت نیچے چلے جاتے ہیں تو میرے خیال میں یہ ایک مکمل تباہی کا طوفان ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سسٹم سے بہت زیادہ کریڈٹ نکلوایا جارہا ہے اور اگر قرض دہندگان کو سیلسیس اور تھری ایرو سے نقصانات کو برداشت کرنا پڑتا ہے، تو وہ اپنی مستقبل کی قرض کے کھاتوں کا حجم کم

 

کر دیں گے جس کا مطلب ہے کہ کرپٹو ایکو سسٹم میں دستیاب کریڈٹ کی پوری رقم بہت زیادہ کم ہے۔فارتھنگ نے کہا کہ یہ مجھے 2008 جیسا محسوس ہوتا ہے کہ کس طرح دیوالیہ پن اور لیکویڈیشن کے اثرات دوسرے شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔کرپٹو میں پیش رفت ایکویٹی میں گراوٹ سے موافقت رکھتی ہے کیونکہ امریکی اسٹاک کو شرح سود میں اضافے اور کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے امکانات کے خوف سے دو سالوں میں ان

 

کی سب سے بڑی ہفتہ وار فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔چھوٹی کرپٹو کرنسیوں کو بڑے ٹوکنز کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے بٹ کوائن اور اسٹیبل کوائنز کی تقابلی حفاظت کی کوشش کی ہے جن کی قدر روایتی اثاثوں اور زیادہ تر امریکی ڈالر کے برابر ہے۔کرپٹو مارکیٹ کی مالیت تقریباً 870 ارب ڈالر ہے جس میں بے انتہا کمی آئی ہے کیونکہ نومبر 2021 میں یہ 29 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھی۔البتہ

 

حالیہ مہینوں میں اسٹیبل کوائنز کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی کمی آئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مجموعی طور پر اس شعبے سے پیسہ نکال رہے ہیں۔دنیا کے سب سے بڑے اسٹیبل کوائن ’ٹیتھر‘ کا مارکیٹ کیپ گر کر تقریباً 68 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو مئی کے اوائل میں 83 ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button