fbpx
Tickerسدا بہار

طبیعت خراب تھی مگر عبادت نہیں چھوڑی ۔۔ شیخ الحدیث کے جنازے پر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو کیوں نہیں رک رہے تھے؟

ستمبر 12, 2022 | 3:00 صبح

پاکستان کی مشہور شخصیات میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکند کا شمار ان چند شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے سماج میں بہتری کے لیے اپنا فرض

بخوبی ادا کیا۔ اس خبر میں آپ کو انہی سے متعلق کچھ ایسی معلومات فراہم کریں گے جو ہو سکتا ہے آپ بھی نہیں جانتے ہوں۔1935 میں سرحدی صوبے کے علاقے کوکال میں پیدا ہونے والے مولانا عبدالرزاق اسکندر نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے اور علاقے سے حاصل کی، جہاں انہیں مذہبی اور اخلاقی طور پر تعلیم دی جاتی۔اپنے بہترین اخلاق، نظم و ضبط اور دھیمے لہجے والے مولانا عبدالرزاق اسکندر نے اپنے انداز سے ہر ایک کو اپنا

گرویدہ بنا دیا تھا، کئی مذہی کتابوں کے مصنف بھی رہے، جو اب مذہبی درسگاہوں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔دوسری جانب شیخ الحدیث کا خطاب پانے والے مولانا عبدالرزاق اسکندر 1997 میں جامعہ العلوم السلامیہ کے چانسلر بھی بنے، وفاق المدارس کے ممبر بھی بنے، 2001 میں وائس پریزیڈنٹ بھی بنے، جبکہ صدر کا عہدے پر بھی ذمہ داری خوب نبھائی۔اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے والے مولانا

عبدالرزاق پاکستان کا وہ اثاثہ تھے، جنہوں نے الازہر جامعہ، اسلامک یونی ورسٹی آف مدینہ سے تعلیم حاصل کی۔ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی مدارس العربیہ پاکستان کے صدر کے عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے والے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو عربی زبان پر بھی عبور حاصل تھا، جبکہ ان کی انگریزی بھی کافی اچھی تھی، سلجھے ہوئے، باصلاحیت مذہبی رہنما جنہوں نے افہام و تفہیم اور بھائی چارگی کا

درس دیا۔مذہبی کتب اور اسلام سے مولانا کو اس حد تک لگاؤ تھا، کہ جب وہ اسپتال میں زیر علاج تھے تو اس وقت بھی مذہبی کتابیں پڑھا کرتے تھے، سانس لینے میں تکلیف ہوتی تھی لیکن پھر بھی اپنے شاگردوں کو یہ پیغام دے گئے کہ اصل خزانہ یہ دنیا نہیں بلکہ علم ہے، جو ہر قسم کی جہاد میں کام آتا ہے۔مولانا عبدالرزاق اسکندر 2021 میں علالت کے باعث جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے، ان کے جنازے نے پاکستان سمیت بھارت میں بھی

توجہ حاصل کی تھی۔ جبکہ ان کے جنازے میں شامل شاگرد اور چاہنے والے زار و قطار رو تو رہے تھے لیکن ان کی قبر پر پوری رات بیٹھ کر ایصال ثواب کرتے رہے، جس نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کی۔

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button