fbpx
Tickerصحت افزا

بار بار کھانسی آنا یا پھر۔۔۔۔۔۔۔ہارٹ اٹیک سے 30 دن پہلے سامنے آنے والی ایسی علامات جو دل کے دورے کی اطلاع دیتی ہیں

ستمبر 19, 2022 | 9:00 صبح

انسان کا جسم ایک مشین کی مانند ہے جس کے ہر عضو کا دوسرے عضو سے تعلق ہوتا ہے اور کسی ایک حصے میں خرابی دوسرے عضو کو متاثر

ضرور کرتی ہے ۔ دل انسانی جسم کا ایک بنیادی حصہ ہے جس کا کام جسم کے ہر حصے کو خون مہیا کرنا ہوتا ہے دل کی کسی شریان میں رکاوٹ دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتی ہے مگر یہ رکاوٹ اچانک نہیں ہوتی ہے بلکہ رفتہ رفتہ ہوتی ہے جس کو جسم کے مختلف حصوں میں خرابی سے جانچا جا سکتا ہے- ایسی ہی کچھ علامات کے بارے مین ہم آپ کو آج بتائيں گے جو کہ دل کے دورے سے تقریباً ایک

مہینہ قبل سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں جن کو اگر سنجیدگی سے لیا جائے تو دل کے دورے سے بچا جا سکتا ہے-1: سینے میں درد اور بازو میں دردسینے میں بائيں جانب ہونے والا درد درحقیت دل کا درد ہو سکتا ہے جو کہ مردوں کے بائيں بازو کی جانب پھیلتا ہے جب کہ عورتوں میں یہ درد دائيں اور بائیں دونوں بازؤں میں پھیل سکتا ہے- اس کے علاوہ سانس لینے میں دشواری اورگھٹن کا محسوس ہونا بھی ایسی علامات ہیں جن کو معمولی

سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے-2: مستقل کھانسی کا ہوناویسے تو کھانسی کے بہت سارے دیگر اسباب بھی ہوتے ہیں مگر دل میں خرابی کی صورت میں بھی مستقل کھانسی ہوتی ہے اور یہ کھانسی نہ رکنے والی کھانسی ہوتی ہے اس کھانسی کے ساتھ اگر خون بھی آرہا ہو تو یہ زيادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے-3: پیروں، ٹانگوں کی سوجنعام طور پر پیروں کی سوجن کو گردوں کی خرابی تصور کی جاتی ہے مگر دل میں خرابی کی

صورت میں بھی پیروں اور ٹانگوں کا دوران خون متاثر ہوتا ہے اور خون کی روانی متاثر ہونے کے سبب ان حصوں میں سوزش آنا شروع ہو جاتی ہے- لہٰذا اس سوزش کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے-4: بدہضمی اور متلی ہونامعدے کا ایک حصہ دل کے قریب ہوتا ہے اس وجہ سے دل کی سوزش یا اس میں کسی قسم کی خرابی معدے پر دباؤ کا باعث ہوتی ہے جس سے ہاضمے کا عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے

اور بھوک میں کمی واقع ہو سکتی ہے- اس کے ساتھ ساتھ متلی بھی بار بار آسکتی ہے خاص طور پر ذيابطیس کے مریض جن کو درد زيادہ محسوس نہیں ہوتا ہے ان کے لیۓ بدہضمی کی علامت دل کے دورے کا سبب ثابت ہوتی ہے-5: زیادہ تھکاوٹ محسوس کرناشریانوں کے بند ہونے کے سبب دل جسم کے تمام حصوں کو خون مکمل طور پر سپلائی نہیں کر سکتا ہے جس کی وجہ سے انسان تھوڑی سی حرکت کے سبب بھی جلد تھکاوٹ کا شکار

ہو جاتا ہے اور اس کو چلنے پھرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سانس بھی جلد پھولنے لگتا ہے-6: بے ہوش ہو جاناجب دل کی شریانوں میں بلاکیج ہو جائے تو اس صورت میں جسم کے دوسرے حصوں کی طرح دماغ کو بھی خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اس وجہ سے انسان بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو سکتا ہے اس صورت میں بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے-

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button