آج کا ایشواخبار

توہین آمیز خاکے، مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ، احتجاجی مظاہرے

لاہور(لمحہ نیوز/ لمحہ اِخبار) فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کیخلاف دنیا بھر میں مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے ، بائیکاٹ فرانس کی مہم میں شدت آ رہی ہے اور کویت ، قطر ، سعودی عرب، تیونس اور اردن میں بھی فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کر دیا گیا ہے۔

متعدد عرب ممالک میں سپر سٹورز اور دکانوں سے فرانسیسی اشیاء ہٹا دی گئیں ،شام کے شہر حلب کے علاقے قباسین میں فرانسیسی صدر میکغون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، فرانسیسی صدر کے چہرے پر جوتوں کے نشان والے بینرز آویزاں کردیے گئے۔ شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نبی کریم ﷺ سے محبت کے نعرے درج تھے، چیچنیا میں لاکھوں مسلمان آنحضور ﷺ سے محبت اور اظہار عقیدت پیش کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

فلسطین میں بھی ہزاروں مسلمان رات گئے سڑکوں پر نکل آئے، گستاخی کے خلاف شدید احتجاج، اسرائیل میں عرب مسلمانوں نے بھی فرانس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 

تفصیلات کے مطابق کویتی پرچون فروشوں نے فرانسیسی مصنوعات کا اجتماعی بائیکاٹ کردیا ہے،دکانوں اور سپر سٹورز سے فرانسیسی مصنوعات ہٹا دیں، کویت میں صارفین کوآپریٹیو سوسائیز میں شامل 70تنظیموں نے فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کیلئے باقاعدہ سرکلر جاری کردیا ہے۔

قطر کے تاجروں نے بھی فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کردیا ہے ، مختلف قطری کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کے متبادل دیگر مصنوعات کی خریدوفروخت کو ترجیح دیں گے۔

اردن اورفلسطین میں بھی فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے ، کویت کی وزارت خارجہ نےخبردار کیا ہے کہ اسلام کو دہشتگردی سے جوڑنے والوں کی حمایت سے باز رہا جائے، خلیج تعاون کونسل نے فرانسیسی صدر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں جی سی سی کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر لوگوں میں نفرت کا کلچر پروان چڑھانا چاہتے ہیں ، قطر یونیورسٹی نے فرانسیسی کلچرل ویک کو ملتوی کردیا ہے۔

ادھر عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب میں فرانسیسی سپرمارکیٹ ’کارفور‘ کے بائیکاٹ کے لیے ٹویٹر پر مہم چلائی جارہی ہے اور آج اس کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ دوسرے نمبر پر رہا۔

دریں اثناء کویتی وزیرخارجہ نے اتوارکو فرانسیسی سفیر سے ملاقات میں کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی سرکاری یا سیاسی گفتگو میں کسی بھی انداز میں مذہب کی توہین سے گریزکیا جانا چاہیے تاکہ اس سے منافرت ،مخاصمت اور نسل پرستی پروان نہ چڑھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button