اخبارشہر شہر سے

لاہور میں اورنج ٹرین چل پڑی ،چالیس روپے میں ستائس کلومیٹر

لاہور: اورنج ٹرین سروس شہریوں کے لیے کھول دی گئی ۔ ٹرین صبح ساڑھے 7 سے رات ساڑھے 8 بجے تک چلائی جائے۔حکومت پنجاب کی جانب سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کا یکطرفہ کرایہ 40 روپے رکھا گیا ہے۔

۔27 کلومیٹر طویل ٹریک کے لیے 26 سٹیشنز بنائے گئے ہیں

چین سے آئے ہوئے ماہرین نے پاکستانی ڈرائیورز کو ٹرین چلانے کی تربیت دی جب کہ ٹرین کی صفائی کا کام لاہور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کو سونپا گیا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ٹرین کو 8 گرڈ سٹیشن بجلی مہیا کریں گے اور ابتدائی طور پر ٹرین کو 12 گھنٹے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ مستقبل میں ٹرین کا آپریشن ٹائم 16 گھنٹے تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ اورنج ٹرین کا ٹریک 27.1 کلومیٹر طویل اور 26 سٹیشنز پر مشتمل ہے، ٹرین کے تمام راستوں پر اور ٹرین کے اندر کیمرے نصب ہیں۔

1.6 ارب ڈالر کا منصوبہ 1.45 ڈالر میں مکمل کیا: صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ

ٹرین منصوبہ پانچ سال کے عرصے میں مکمل ہوا ہے اور منصوبے پر 1.45 ارب ڈالر میں لاگت آئی ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب جہانزیب کھچی کا کہنا ہے کہ لاہور کا اورنج لائن ٹرین مںصوبہ 1.6 ارب ڈالر کا تھا لیکن ہم نے اسے 1.45ارب ڈالر میں مکمل کر کے 1.5 ملین ڈالر کی بچت کی ہے۔ جہانزیب کھچی کا کہنا تھا کہ ٹرین منصوبے پر حکومت 5 ارب روپے کی سبسڈی دےگی۔

چینی ماہرین پاکستانی ڈرائیورز کو تربیت فراہم کریں گے

انہوں نے بتایا کہ چین سے 200 ڈرائیور پر مشتمل ماہرین کی ٹیم پاکستان آئی ہے جو 3 ماہ تک پاکستانی ڈرائیورز کو تربیت دے گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ ڈھائی لاکھ مسافر یومیہ کا ہدف پورا کرنے کی کوشش کریں گے اور 6 ماہ بعد سٹیج وائز کرایہ مقرر کرنے کی کوشش کریں گے۔

وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب کا کہنا ہے کہ ایک چکر پر ٹرین میں 14 سے 16 ہزار روپے کی بجلی خرچ ہوتی ہے، بل کی مد میں ماہانہ 2 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button